دی ہے جو تو نے تشنۂ غربت کو آبرو — خواجہ حیدر علی آتش
“The honor you have granted to the exile parched with thirst— not Kausar's water is so sweet, nor Salsabil's pure spring.”
معنی
پردیس میں پیاس سے تڑپتے ہوئے کو تو نے جو عزت و آبرو بخشی ہے، ویسی مٹھاس اور پاکیزگی نہ کوثر کے پانی میں ہے اور نہ سلسبیل کے چشمے میں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک ایسے مسافر کی بات کرتا ہے جو پردیس میں بھٹکا ہوا اور پیاس سے بے حال ہے — اور جو عزت اور راحت اسے عطا ہوئی ہے، وہ اتنی قیمتی ہے کہ جنت کی مشہور نہروں کوثر اور سلسبیل کا میٹھا پانی بھی اس کے سامنے پھیکا پڑ جائے۔ یہاں پیاس صرف گلے کی نہیں بلکہ دل کی بھی ہے، کسی اپنائیت اور تکریم کی تڑپ۔ شاعر کہتا ہے کہ کسی بے کس کو آبرو بخشنا کسی بھی آسمانی نعمت سے بڑھ کر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
