آتش یہی دعا ہے خدائے کریم سے — خواجہ حیدر علی آتش
“O Aatish, this alone is my prayer to the gracious God: O Generous One, never make me beholden to a miser's hand.”
معنی
اے آتش، کریم خدا سے بس یہی دعا ہے کہ اے کریم، مجھے کسی بخیل کا محتاج نہ بنانا۔
تشریح
آتش اُس کریم خدا سے صرف ایک ہی دعا مانگتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو، اُنہیں کبھی کسی بخیل کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ یہاں خوبصورتی یہ ہے کہ شاعر دولت یا آسائش نہیں مانگتا بلکہ اپنی عزتِ نفس کی حفاظت مانگتا ہے۔ بخیل کے سامنے جھکنا دوہری ذلت ہے—نہ مدد ملتی ہے، نہ عزت باقی رہتی ہے—اِسی لیے آتش اُس خدا سے پناہ مانگتے ہیں جو حقیقی معنوں میں کریم اور کھلے دل والا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
