کیا داد خواہ ہو کوئی اُس کے قتیل کا — خواجہ حیدر علی آتش
“Who would dare seek justice for the one her glance has slain? The lover's blood is decreed as free water poured in vain.”
معنی
اُس کے مارے ہوئے کے لیے کون انصاف طلب کرے؟ عاشق کے خون کو تو سبیل کے مفت پانی کی طرح بہا دینے کا حکم ہے۔
تشریح
ذرا سوچیے، محبوب کی نگاہ نے جسے قتل کیا ہو، اُس کے لیے کون انصاف مانگنے کی جرأت کرے؟ شاعر کہتا ہے کہ عاشق کا خون تو اُس سبیل کے پانی جیسا ہے جو راہگیروں کے لیے مفت بہایا جاتا ہے — نہ اُس کی کوئی قیمت، نہ کوئی حساب۔ اِس میں عشق کی وہ درد بھری ستم ظریفی ہے جہاں عاشق کی جان یوں ہی بے مول بہہ جاتی ہے اور کوئی اُس کا ماتم تک نہیں کرتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
