راہ عدم کو جاتے ہین خاموش قافلے — خواجہ حیدر علی آتش
“Toward the road of oblivion the silent caravans depart, each bell lies hushed, its voice but dust-kohl scattered on this path.”
معنی
خاموش قافلے عدم کی راہ کی طرف جا رہے ہیں، اور ہر جرس اس راہ کے غبار کا سُرمہ بنی ہوئی ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر زندگی سے موت کی طرف بڑھتے قافلوں کی تصویر کھینچتے ہیں جو بالکل خاموشی سے راہِ عدم پر رواں دواں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس راستے کی ہر گھنٹی اب بے آواز ہو چکی ہے، گویا اس کی صدا غبار بن کر سرمے کی طرح اس راہ پر بکھر گئی ہو۔ یہ فنا کا گہرا استعارہ ہے کہ موت کا سفر بے شور و غوغا طے ہوتا ہے، اور زندگی کا سارا شور آخرکار خاموشی اور دھول میں ڈھل جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
