باغ و بہار آتش نمرود کو کیا — خواجہ حیدر علی آتش
“You turned the fire of Nimrod into a garden in bloom; In the hour of hardship, You became Your Friend Khalil's defender.”
معنی
تو نے نمرود کی آگ کو باغ و بہار بنا دیا؛ مشکل کے وقت تو اپنے دوست خلیل کا مددگار ہوا۔
تشریح
اس شعر میں اُس مشہور واقعے کی طرف اشارہ ہے جب نمرود نے حضرت ابراہیم (خلیلؔ) کو آگ میں ڈالا اور خدا نے اُسی بھڑکتی آگ کو پھولوں کا باغ بنا دیا۔ شاعر کہتا ہے کہ مشکل کی گھڑی میں تُو ہی اپنے دوست کا حامی بنا۔ گہرا پیغام یہ ہے کہ سچے اہلِ ایمان کو خدا کبھی تنہا نہیں چھوڑتا—جہاں انسان کو تباہی نظر آتی ہے، وہاں خدا نئی زندگی اور رحمت کھلا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
