طوفان مین ناخدائی کشتی نوح کی — خواجہ حیدر علی آتش
“In the storm, the steering of Noah's ark itself— truly, were it not eternal, I would stand as surety for my Protector.”
معنی
طوفان میں نوح کی کشتی کی ناخدائی—حق تو یہ ہے کہ اگر وہ ابدی نہ ہوتی تو میں اپنے کفیل کی ضمانت لے لیتا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نوحؑ کی کشتی کا ذکر کرتا ہے جو طوفان کی شدت میں بھی سلامت رہی، کیونکہ اس کی ناخدائی خدائی ہاتھوں میں تھی۔ مطلب یہ ہے کہ جب محافظ خود کشتی کا سکان تھامے ہو تو کوئی طوفان ڈبو نہیں سکتا—ایمان ہی سب سے مضبوط کشتی بن جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ حفاظت ابدی ہے، اور اس پر اتنا یقین ہے کہ وہ خود اپنے کفیل کی ضمانت دینے کو تیار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
