غزل

آئینہ سینۂ صاحب نظراں ہو کہ جو تھا

آئینہ سینۂ صاحب نظراں ہو کہ جو تھا

Source: Kulliyat-e-Aatish (Matba Munshi Naval Kishore, Lucknow) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
आईना सीना-ए-साहिब-ए-नज़राँ हो कि जो था चेहरा-ए-शाहिद-ए-मक़्सूद अयाँ हो कि जो था
آئینہ سینۂ صاحب نظراں ہو کہ جو تھا چہرۂ شاہدِ مقصود عیاں ہو کہ جو تھا
کاش آئینہ پھر سے اُن لوگوں کا سینہ بن جائے جو سچی نظر رکھتے ہیں، جیسا کہ پہلے تھا؛ اور وہ مقصود محبوب کا چہرہ پھر سے عیاں ہو جائے، جیسا کہ پہلے تھا۔
2
इश्क़-ए-गुल में वही बुलबुल का फ़िग़ाँ हो कि जो था पर्तो-ए-मह से वही हाल-ए-कताँ हो कि जो था
عشقِ گل میں وہی بلبل کا فغاں ہو کہ جو تھا پرتوِ مہ سے وہی حالِ کتاں ہو کہ جو تھا
گل کے عشق میں بلبل کی فریاد ویسی ہی رہے جیسی پہلے تھی، اور چاند کی روشنی سے کتان (سن کے دھاگے) کا حال بھی ویسا ہی رہے جیسا پہلے تھا۔
3
आलम-ए-हुस्न-ए-ख़ुदा-दाद-ए-बुताँ हो कि जो था नाज़-ओ-अंदाज़ बला-ए-दिल-ओ-जाँ हो कि जो था
عالمِ حُسنِ خدا داد بتاں ہو کہ جو تھا ناز و انداز بلائے دل و جاں ہو کہ جو تھا
بتوں کے خدا داد حُسن کا عالم جیسا تھا ویسا ہی رہے، اور ان کا ناز و انداز دل و جان کی بلا تھا ویسا ہی رہے۔
4
राह में तेरी शब-ओ-रोज़ बसर करता हूँ वही मील और वही संग-ए-निशाँ हो कि जो था
راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں وہی میل اور وہی سنگِ نشاں ہو کہ جو تھا
میں تیری راہ میں شب و روز گزارتا ہوں۔ کاش میں وہی میل کا پتھر اور وہی نشانی کا پتھر رہوں جو پہلے تھا۔
5
रोज़ करते हैं शब-ए-हिज्र को बेदारी में अपनी आँखों में सग-ए-ख़्वाब-ए-गिराँ हो कि जो था
روز کرتے ہیں شبِ ہجر کو بیداری میں اپنی آنکھوں میں سگِ خوابِ گراں ہو کہ جو تھا
میں ہر روز ہجر کی رات جاگ کر گزارتا ہوں، گویا میری آنکھوں میں جو گہری نیند پہلے تھی وہ اب باقی نہیں رہی۔
6
एक आलम में हो हर-चंद मसीहा मशहूर नाम-ए-बीमार से तुमको ख़फ़क़ाँ हो कि जो था
ایک عالم میں ہو ہر چند مسیحا مشہور نام بیمار سے تمکو خفقاں ہو کہ جو تھا
اگرچہ تم سارے عالم میں مسیحا کے طور پر مشہور ہو، پھر بھی بیمار کا نام سن کر تمہیں ویسی ہی گھبراہٹ ہوتی ہے جیسی پہلے ہوتی تھی۔
7
दौलत-ए-इश्क़ का गंजीना वही सीना है दाग़-ए-दिल ज़ख़्म-ए-जिगर मोहर-ओ-निशाँ हो कि जो था
دولتِ عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے داغِ دل زخمِ جگر مہر و نشاں ہو کہ جو تھا
عشق کی دولت کا خزانہ وہی سینہ ہے، جس میں دل کا داغ اور جگر کا زخم اُسی مہر و نشان کی طرح موجود ہیں جو پہلے تھے۔
8
नाज़-ओ-अंदाज़-ओ-अदा से तुम्हें शर्म आने लगी आरिज़ी हुस्न का आलम वो कहाँ हो कि जो था
ناز و انداز و ادا سے تمھیں شرم آنے لگی عارضی حُسن کا عالم وہ کہاں ہو کہ جو تھا
تمھیں اپنے ناز، انداز اور ادا سے شرم آنے لگی ہے۔ عارضی حُسن کا جو عالم پہلے تھا، وہ اب کہاں رہا۔
9
जान की तस्कीन के लिए हालत-ए-दिल कहते हैं बे-यक़ीनी का तेरी हमको गुमाँ हो कि जो था
جان کی تسکین کے لئے حالتِ دل کہتے ہیں بے یقینی کا تری ہمکو گماں ہو کہ جو تھا
اپنی جان کو تسکین دینے کے لیے میں دل کا حال بیان کرتا ہوں، تاکہ مجھے تیری بے وفائی کا وہ گمان نہ ہو جو پہلے تھا۔
10
असर-ए-मंज़िल-ए-मक़्सूद नहीं दुनिया में राह में क़ाफ़िला-ए-रेग-ए-रवाँ हो कि जो था
اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں راہ میں قافلۂ ریگِ رواں ہو کہ جو تھا
اس دنیا میں منزلِ مقصود کا کوئی نشان باقی نہیں؛ راستے میں جو کچھ تھا وہ محض بہتی ہوئی ریت کا قافلہ تھا۔
11
दहन उस रू-ए-किताबी में हो पर ना-पैदा इस्म-ए-आज़म वही क़ुरआन में निहाँ हो कि जो था
دہن اُس روئے کتابی میں ہو پر ناپیدا اسمِ اعظم وہی قرآن میں نہاں ہو کہ جو تھا
اُس کتاب جیسے چہرے میں دہن ایسا ہو جو دکھائی نہ دے، اور وہی اسمِ اعظم قرآن میں چھپا ہو جو پہلے سے تھا۔
12
काबा मद्द-ए-नज़र-ए-क़िब्ला-नुमा है ता-हाल कू-ए-जानाँ की तरफ़ मैल-ए-निगराँ हो कि जो था
کعبہ مدِّ نظرِ قبلہ نما ہے تا حال کوئے جاناں کی طرف میلِ نگراں ہو کہ جو تھا
کعبہ اب بھی قبلہ دکھانے والی نظر کا مرکز بنا ہوا ہے؛ کاش وہ ترستی نگاہ اب بھی محبوب کی گلی کی طرف مڑتی، جیسے پہلے مڑتی تھی۔
13
कोह-ओ-सहरा-ओ-गुलिस्ताँ में फिरा करता है मुतलाशी वो तेरा आब-ए-रवाँ है कि जो था
کوہ و صحرا و گلستان میں پھرا کرتا ہے متلاشی وہ ترا آبِ رواں ہے کہ جو تھا
وہ کوہ، صحرا اور باغوں میں پھرتا رہتا ہے؛ تیرا وہ بہتا ہوا پانی، جو پہلے تھا، آج بھی تجھے ڈھونڈ رہا ہے۔
14
सोज़िश-ए-दिल से तसल्सुल हो वही आहों का ऊद के जलने से मिज्मर में धुआँ हो कि जो था
سوزشِ دل سے تسلسل ہو وہی آہوں کا عود کے جلنے سے مجمر میں دھواں ہو کہ جو تھا
دل کی سوزش سے آہوں کا وہی سلسلہ قائم رہے، جیسے عود کے جلنے سے مجمر میں وہی دھواں اٹھتا ہے جو پہلے تھا۔
15
रात कट जाती हो बातें रही सुनते सुनते शम्अ-ए-महफ़िल सनम-ए-चोब-ए-ज़बाँ है कि जो था
رات کٹ جاتی ہو باتیں رہی سُنتے سُنتے شمعِ محفل صنمِ چوبِ زباں ہے کہ جو تھا
رات یونہی باتیں سنتے سنتے کٹ جائے؛ محفل کی شمع تو پہلے کی طرح اب بھی لکڑی کی زبان والی خاموش مورت ہی ہے۔
16
पा-ए-ख़ुम मस्तों के हू-हक़ का जो आलम हो सो हो मिंबर वही वाइज़ का बयाँ है कि जो था
پائے خم مستوں کے ہو حق کا جو عالم ہو سو ہو منبر وہی واعظ کا بیاں ہے کہ جو تھا
خم کے پاس مستوں پر 'ہو' اور 'حق' کا جو بھی عالم طاری ہو، وہ جیسا ہو ویسا رہے؛ واعظ کا وہی منبر اور اُس کا بیان آج بھی ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا۔
17
कौन से दिन नई क़ब्रें नहीं इसमें बनतीं ये ख़राबा वही इबरत का मकाँ हो कि जो था
کون سے دن نئی قبریں نہیں اسمیں بنتیں یہ خرابہ وہی عبرت کا مکاں ہو کہ جو تھا
کون سا دن ایسا ہوتا ہے جب اس جگہ نئی قبریں نہیں بنتیں۔ یہ اجڑا ہوا کھنڈر وہی عبرت کا مکان ہے جو پہلے تھا۔
18
बख़ैर-ए-शौक़ से मेरे नहीं वो नूर-ए-निगाह क़ासिद-ए-अश्क-ए-शब-ओ-रोज़ रवाँ हो कि जो था
بخیرِ شوق سے میرے نہیں وہ نورِ نگاہ قاصدِ اشکِ شب و روز رواں ہو کہ جو تھا
وہ نورِ نگاہ میرے شوق کی خیر کے لیے نہیں ہے؛ آنسوؤں کا قاصد جو شب و روز رواں تھا، ویسا ہی بہتا رہتا ہے۔
19
लैलत-उल-क़द्र किनाया न शब-ए-वस्ल हो हो उस का अफ़्साना बयान-ए-रमज़ान हो कि जो था
لیلتہ القدر کنایہ نہ شب وصل ہو ہو اس کا افسانہ بیان رمضان ہو کہ جو تھا
لیلۃ القدر شبِ وصل کا کنایہ بن جائے، اور اس کی داستان اُس گزرے رمضان کا بیان ہو جو کبھی تھا۔
20
दीन-ओ-दुनिया का तलबगार हनोज़ आतिश है ये गदा साइल-ए-नक़्द-ए-दो-जहान है कि जो था
دین و دنیا کا طلبگار ہنوز آتش ہے یہ گدا سائل نقد دو جہان ہے کہ جو تھا
آتش آج بھی دین و دنیا دونوں کا طلبگار ہے؛ یہ گدا آج بھی دونوں جہانوں کی دولت مانگ رہا ہے، جیسا پہلے تھا ویسا ہی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.