راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں — خواجہ حیدر علی آتش
“Upon your path I spend my nights and days away, Still the same milestone, the same marking-stone that stood before, I stay.”
معنی
میں تیری راہ میں شب و روز گزارتا ہوں۔ کاش میں وہی میل کا پتھر اور وہی نشانی کا پتھر رہوں جو پہلے تھا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر خود کو اُس راستے کا میل کا پتھر بنا دیتا ہے جہاں اُس کا محبوب گزرتا ہے — وہ شب و روز وہیں کھڑا انتظار میں گزار رہا ہے۔ میل اور سنگِ نشاں کی تصویر کتنی پیاری ہے — جیسے وہ پتھر جو صدیوں سے ایک ہی جگہ اٹل کھڑا رہتا ہے، ویسے ہی عاشق اپنی محبت میں ثابت قدم اور بے حساب ہے۔ گہرائی میں بات یہ ہے کہ نہ وقت بدلا، نہ اُس کی وفا — وہ آج بھی ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا، ایک جگہ جما ہوا، امید میں ڈوبا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
