رات کٹ جاتی ہو باتیں رہی سُنتے سُنتے — خواجہ حیدر علی آتش
“May the night pass by as we keep listening to these tales— the candle of the gathering is a wooden-tongued idol, as it ever was.”
معنی
رات یونہی باتیں سنتے سنتے کٹ جائے؛ محفل کی شمع تو پہلے کی طرح اب بھی لکڑی کی زبان والی خاموش مورت ہی ہے۔
تشریح
یہ شعر ایک رات کی محفل کا منظر کھینچتا ہے جہاں لوگ باتیں کرتے کرتے پوری رات گزار دینا چاہتے ہیں۔ شاعر شمعِ محفل کو 'صنمِ چوبِ زباں' کہتا ہے—یعنی ایک ایسا بُت جس کی زبان لکڑی کی ہے، جو روشنی تو دیتا ہے مگر خاموش رہتا ہے، کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اس میں ایک لطیف تنہائی چھپی ہے—باتوں کے اس شور میں محفل کی سب سے روشن چیز گونگی ہے، 'جیسی تھی ویسی ہی' رہ گئی، اور یہی خاموشی ساری رات پر ایک اداس سایہ ڈال دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
