ناز و انداز و ادا سے تمھیں شرم آنے لگی — خواجہ حیدر علی آتش

ناز و انداز و ادا سے تمھیں شرم آنے لگی عارضی حُسن کا عالم وہ کہاں ہو کہ جو تھا

“Of coquetry and grace and charm you have grown shy at last— that fleeting glory of your beauty, where is it now that passed?”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

تمھیں اپنے ناز، انداز اور ادا سے شرم آنے لگی ہے۔ عارضی حُسن کا جو عالم پہلے تھا، وہ اب کہاں رہا۔

تشریح

شاعر یہاں محبوب کے بدلتے تیور اور ڈھلتے وقت کو بڑی اپنائیت اور حسرت سے یاد کر رہا ہے، جہاں کبھی شوخی، نخرے اور ناز و ادا کا غلغلہ تھا، اب وہاں ایک خاموش جھجھک اور شرم نے جگہ لے لی ہے۔ حسن کو 'عارضی' کہہ کر شاعر نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ جوانی کی رعنائیاں سدا نہیں رہتیں۔ یہ شعر دراصل گزرتے وقت، کھوئی ہوئی دلکشی اور ماضی کی خوش رنگ یادوں کا ایک نرم اور اداس مرثیہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.