سوزشِ دل سے تسلسل ہو وہی آہوں کا — خواجہ حیدر علی آتش

سوزشِ دل سے تسلسل ہو وہی آہوں کا عود کے جلنے سے مجمر میں دھواں ہو کہ جو تھا

“From the heart's burning, let that same unbroken chain of sighs arise, As when the aloe-wood is lit, the smoke within the censer rises as it was before.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

دل کی سوزش سے آہوں کا وہی سلسلہ قائم رہے، جیسے عود کے جلنے سے مجمر میں وہی دھواں اٹھتا ہے جو پہلے تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دل کی سوزش کو ایک معطر مجمر سے تشبیہ دیتا ہے۔ جیسے عود یعنی خوشبودار لکڑی جلنے سے مجمر سے مسلسل دھواں اٹھتا ہے، ویسے ہی وہ چاہتا ہے کہ دل کے درد سے آہوں کا سلسلہ ٹوٹے نہیں، بلکہ پہلے کی طرح جاری رہے۔ خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں غم کو ایک میٹھی خوشبو کی مانند دیکھا گیا ہے — گویا محبت کی تڑپ بھی ایک عبادت ہے، جس کا دھواں فضا کو مہکاتا رہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.