دہن اُس روئے کتابی میں ہو پر ناپیدا — خواجہ حیدر علی آتش

دہن اُس روئے کتابی میں ہو پر ناپیدا اسمِ اعظم وہی قرآن میں نہاں ہو کہ جو تھا

“Let burning dwell unseen within that book-like face, The same Supreme Name hidden in the Quran, as it was of old.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اُس کتاب جیسے چہرے میں دہن ایسا ہو جو دکھائی نہ دے، اور وہی اسمِ اعظم قرآن میں چھپا ہو جو پہلے سے تھا۔

تشریح

اِس شعر میں شاعر محبوب کے چہرے کو کسی مُقدّس کتاب کے حسین ورق سے تشبیہ دیتا ہے، جہاں دہن یعنی منہ اِتنا نازک اور ننھا ہے کہ وہ گویا دکھائی ہی نہیں دیتا، ناپیدا ہے۔ پھر وہ ایک گہری روحانی بات کہتا ہے کہ جیسے قرآن میں 'اسمِ اعظم'، خدا کا سب سے بڑا اور پوشیدہ نام چھپا رہتا ہے، ویسے ہی اِس کتابی چہرے میں بھی کوئی پُراسرار، اَن دیکھا راز نہاں ہے۔ یوں حُسن اور عبادت ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں، اور محبوب کا دیدار ایک پاک عبادت بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.