جان کی تسکین کے لئے حالتِ دل کہتے ہیں — خواجہ حیدر علی آتش
“To bring my soul some solace, I speak of my heart's condition, lest I come to doubt your faithlessness as I once did before.”
معنی
اپنی جان کو تسکین دینے کے لیے میں دل کا حال بیان کرتا ہوں، تاکہ مجھے تیری بے وفائی کا وہ گمان نہ ہو جو پہلے تھا۔
تشریح
اس شعر میں ایک نازک الجھن ہے — شاعر اپنے دل کا حال محض اس لیے کہتا ہے کہ اس کی بے چین جان کو کچھ تسکین مل سکے۔ مگر اسی کہنے میں ایک ڈر بھی چھپا ہے کہ کہیں اسے پھر وہی شک نہ گھیر لے جو محبوب کی بے وفائی کا کبھی تھا۔ یہ محبت میں بھروسے اور شک کے اس نازک رشتے کو بیان کرتا ہے، جہاں سکون کی تلاش بھی پرانے زخموں کو تازہ کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
