عشقِ گل میں وہی بلبل کا فغاں ہو کہ جو تھا — خواجہ حیدر علی آتش
“In love of the rose, let the nightingale's lament be the same as it was, From the moon's radiance, let the flax-thread's state be the same as it was.”
معنی
گل کے عشق میں بلبل کی فریاد ویسی ہی رہے جیسی پہلے تھی، اور چاند کی روشنی سے کتان (سن کے دھاگے) کا حال بھی ویسا ہی رہے جیسا پہلے تھا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک گہری حسرت کے ساتھ کہتا ہے کہ گل کی محبت میں بلبل کی وہی پرانی تڑپ اور فریاد برقرار رہے جو کبھی تھی۔ چاند کی روشنی سے کتان یعنی نازک ریشے کا جو حال ہوتا تھا، وہی کیفیت قائم رہے۔ دراصل یہاں عشق کی پرانی شدت کو زندہ رکھنے کی بات ہے — شاعر چاہتا ہے کہ زمانہ بدل جائے مگر دل کی وہ تڑپ، وہ وارفتگی اور وہ دیوانگی ویسی ہی رہے جیسی کبھی تھی، گویا ماضی کے حسن اور جذبے کو کھونے سے انکار۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
