بخیرِ شوق سے میرے نہیں وہ نورِ نگاہ — خواجہ حیدر علی آتش

بخیرِ شوق سے میرے نہیں وہ نورِ نگاہ قاصدِ اشکِ شب و روز رواں ہو کہ جو تھا

“Not for the sake of my longing is that light of the eyes; the messenger of tears, flowing night and day, remains as once it was.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

وہ نورِ نگاہ میرے شوق کی خیر کے لیے نہیں ہے؛ آنسوؤں کا قاصد جو شب و روز رواں تھا، ویسا ہی بہتا رہتا ہے۔

تشریح

شاعر کہہ رہا ہے کہ جو کبھی اُس کی آنکھوں کا نور تھا، وہ اب اُس کے شوق و محبت کے لیے نہیں رہا — محبوب بدل چکا ہے، بے پروا ہو چکا ہے۔ مگر آنسوؤں کا قاصد آج بھی شب و روز اُسی طرح رواں ہے جیسے پہلے تھا۔ یہاں آنسو اُس وفا کی علامت ہیں جو دوسرے کی بے رُخی کے باوجود کم نہیں ہوئی؛ محبوب کی محبت بدل گئی، پر عاشق کا دردِ دل اور اُس کے بہتے آنسو ویسے کے ویسے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.