کعبہ مدِّ نظرِ قبلہ نما ہے تا حال — خواجہ حیدر علی آتش

کعبہ مدِّ نظرِ قبلہ نما ہے تا حال کوئے جاناں کی طرف میلِ نگراں ہو کہ جو تھا

“The Kaaba is still the focus of the compass-needle gaze— would that the longing eye still turned toward the beloved's lane, as once it was.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

کعبہ اب بھی قبلہ دکھانے والی نظر کا مرکز بنا ہوا ہے؛ کاش وہ ترستی نگاہ اب بھی محبوب کی گلی کی طرف مڑتی، جیسے پہلے مڑتی تھی۔

تشریح

اس شعر میں شاعر قبلہ نما یعنی اُس سوئی کا ذکر کرتے ہیں جو ہمیشہ کعبے کی طرف اشارہ کرتی ہے—آج بھی اُس کی نگاہ وہیں جمی ہے۔ مگر دل کی تمنا یہ ہے کہ کاش وہ نگاہِ مشتاق کوئے جاناں کی طرف اُسی طرح جھکی ہوتی جیسے کبھی ہوا کرتی تھی۔ یہاں عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کے درمیان ایک نرم سی کشمکش ہے، جہاں عاشق کے لیے محبوب کی گلی ہی اصل قبلہ تھی اور دل چپکے سے اُس پرانی عقیدت کو یاد کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.