اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں — خواجہ حیدر علی آتش
“No trace remains of the destination's dwelling in this world— along the road, a caravan of shifting sand, that was all it was.”
معنی
اس دنیا میں منزلِ مقصود کا کوئی نشان باقی نہیں؛ راستے میں جو کچھ تھا وہ محض بہتی ہوئی ریت کا قافلہ تھا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں ہماری منزلِ مقصود کا کوئی نشان تک باقی نہیں رہتا — جس مقصد کی تلاش میں ہم چلتے ہیں وہ گویا ہاتھ ہی نہیں آتا۔ زندگی کے اس سفر کو وہ بہتی ہوئی ریت کے قافلے سے تشبیہ دیتا ہے، جو مسلسل رواں تو ہے مگر کوئی مستقل نقش نہیں چھوڑتا، بکھر کر ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ گہرائی میں یہ شعر زندگی کی بے ثباتی اور اُس خلا کی بات کرتا ہے، جہاں ساری دوڑ دھوپ کے بعد بھی ہاتھ میں کچھ ٹھوس نہیں رہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
