کون سے دن نئی قبریں نہیں اسمیں بنتیں — خواجہ حیدر علی آتش
“What day goes by that no fresh graves are dug within this ground— this ruin is that same abode of warning that it once was found.”
معنی
کون سا دن ایسا ہوتا ہے جب اس جگہ نئی قبریں نہیں بنتیں۔ یہ اجڑا ہوا کھنڈر وہی عبرت کا مکان ہے جو پہلے تھا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر دنیا کو ایک اجڑے ہوئے کھنڈر کی طرح دیکھتا ہے، جہاں ہر روز نئی قبریں بنتی رہتی ہیں — موت کا سلسلہ کبھی نہیں تھمتا۔ 'عبرت کا مکاں' وہ جگہ ہے جو انسان کو سکھاتی ہے کہ یہاں کچھ بھی باقی رہنے والا نہیں۔ شاعر کا دکھ یہ ہے کہ یہ ویران دنیا آج بھی وہی عبرت کی جگہ ہے جو ہمیشہ سے تھی، مگر ہم دیکھ کر بھی کچھ نہیں سیکھتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
