کوہ و صحرا و گلستان میں پھرا کرتا ہے — خواجہ حیدر علی آتش

کوہ و صحرا و گلستان میں پھرا کرتا ہے متلاشی وہ ترا آبِ رواں ہے کہ جو تھا

“Through mountains, deserts, gardens, ceaselessly it wanders on— Still seeking you, that flowing stream remains the same it was before.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

وہ کوہ، صحرا اور باغوں میں پھرتا رہتا ہے؛ تیرا وہ بہتا ہوا پانی، جو پہلے تھا، آج بھی تجھے ڈھونڈ رہا ہے۔

تشریح

اس شعر میں بہتے ہوئے پانی کو ایک بے چین عاشق کی صورت دکھایا گیا ہے، جو پہاڑوں، صحراؤں اور گلستانوں میں ہر سو تجھے ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ آبِ رواں وہی ہے جو پہلے تھا — اس کی تلاش اور تڑپ آج بھی ویسی ہی ہے، وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑی۔ یہ اس سچائی کی طرف اشارہ ہے کہ حقیقی عشق اور روح کی جستجو کبھی تھکتی نہیں، صدیوں بعد بھی اسی شدت سے جاری رہتی ہے۔ پانی کا بہنا یہاں اُس بے قرار آرزو کی علامت ہے جو محبوب کے بغیر کبھی سکون نہیں پاتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.