دولتِ عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے — خواجہ حیدر علی آتش
“The treasure-hoard of love's rich wealth is that same breast alone— the heart's dark scar, the liver's wound its seal and sign, as once they shone.”
معنی
عشق کی دولت کا خزانہ وہی سینہ ہے، جس میں دل کا داغ اور جگر کا زخم اُسی مہر و نشان کی طرح موجود ہیں جو پہلے تھے۔
تشریح
شاعر کہتا ہے کہ عشق کی سچی دولت کا خزانہ وہی سینہ ہے جس میں درد بسا ہو۔ دل کا داغ اور جگر کا زخم یہاں کوئی تکلیف نہیں بلکہ اُس خزانے پر لگی مہر اور نشان ہیں، جیسے کسی شاہی خزانے کی مُہر۔ یعنی عشق میں سہا ہوا غم ہی سب سے بڑی پونجی ہے، اور یہی نشان گواہی دیتے ہیں کہ یہ سینہ سچے عشق کا گھر ہے، جیسا ہمیشہ سے تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
