دین و دنیا کا طلبگار ہنوز آتش ہے — خواجہ حیدر علی آتش
“A seeker still of faith and world, this Aatish burns as before— This beggar begs the coin of both the worlds, the same he was of yore.”
معنی
آتش آج بھی دین و دنیا دونوں کا طلبگار ہے؛ یہ گدا آج بھی دونوں جہانوں کی دولت مانگ رہا ہے، جیسا پہلے تھا ویسا ہی ہے۔
تشریح
آتش یہاں خود پر ایک شگفتہ طنز کرتے ہیں کہ عمر بیت گئی مگر ان کی طلب آج بھی آگ کی طرح بھڑک رہی ہے — وہ اب بھی دین اور دنیا دونوں کے خواہاں ہیں۔ 'گدا' یعنی فقیر کا استعارہ خوبصورت ہے: وہ خود کو ایسا سائل کہتے ہیں جو دونوں جہانوں کی نقدی مانگ رہا ہے، نہ ایمان چھوٹا نہ دنیا کی چاہ۔ اس میں انسانی حرص پر ایک گہرا تبصرہ ہے — آدمی جیسا پہلے تھا، آج بھی ویسا ہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
