لیلتہ القدر کنایہ نہ شب وصل ہو ہو — خواجہ حیدر علی آتش
“Let Lailat-ul-Qadr be an allusion to the night of union— its tale the telling of that Ramazan that once had been.”
معنی
لیلۃ القدر شبِ وصل کا کنایہ بن جائے، اور اس کی داستان اُس گزرے رمضان کا بیان ہو جو کبھی تھا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر لیلتہ القدر — رمضان کی وہ مقدس رات جسے ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا ہے — کو اپنے محبوب کے ساتھ شبِ وصل کا کنایہ بنا دیتا ہے۔ کیا خوبصورت جرأت ہے کہ روحانی برکت کے سب سے اونچے لمحے کو وہ اپنے اُس گزرے ہوئے عشق کی رات سے جوڑ دیتا ہے۔ یہاں پاکیزگی اور محبت ایک ہو جاتے ہیں، اور بیتے ہوئے وصل کی یاد ہی اس کے لیے سب سے مقدس داستان بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
