عالمِ حُسنِ خدا داد بتاں ہو کہ جو تھا — خواجہ حیدر علی آتش
“Let the world of the idols' God-given beauty be what it was, Let their coquetry and grace be the bane of heart and soul, what it was.”
معنی
بتوں کے خدا داد حُسن کا عالم جیسا تھا ویسا ہی رہے، اور ان کا ناز و انداز دل و جان کی بلا تھا ویسا ہی رہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک تھکی ہوئی بے نیازی اور دل برداشتگی کے عالم میں ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ بتوں کا وہ خدا داد حُسن جیسا بھی تھا رہنے دو، اور ان کے وہ ناز و انداز جو کبھی دل و جان پر قیامت ڈھاتے تھے، وہ بھی جیسے تھے ویسے ہی رہیں۔ اس 'جو تھا' کی تکرار میں ایک ٹوٹے دل کا کرب پوشیدہ ہے، گویا اب نہ اُس حُسن سے کوئی سروکار ہے اور نہ اُس ادا کی خواہش، سب کچھ گزرے وقت کی بات بن کر رہ گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
