روز کرتے ہیں شبِ ہجر کو بیداری میں — خواجہ حیدر علی آتش
“Each day I keep the night of parting awake through sleeplessness, as if that heavy slumber once in my eyes were now a thing undone.”
معنی
میں ہر روز ہجر کی رات جاگ کر گزارتا ہوں، گویا میری آنکھوں میں جو گہری نیند پہلے تھی وہ اب باقی نہیں رہی۔
تشریح
اس شعر میں شاعر جدائی کی راتوں کو جاگتے ہوئے گزارتا ہے، گویا نیند اب اُس کی آنکھوں سے روٹھ کر چلی گئی ہو۔ 'خوابِ گراں' یعنی وہ گہری، بھاری نیند جو کبھی اُس کی تھی، اب محض ایک یاد بن کر رہ گئی ہے۔ یہ ہجر کی وہ کیفیت ہے جہاں محبوب کی جدائی نے سکون اور نیند دونوں چھین لیے، اور ہر رات ایک طویل آزمائش بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
