آئینہ سینۂ صاحب نظراں ہو کہ جو تھا — خواجہ حیدر علی آتش
“Let the mirror be the breast of those who truly see, as it once was; Let the face of the beloved, the sought-after goal, be revealed, as it once was.”
معنی
کاش آئینہ پھر سے اُن لوگوں کا سینہ بن جائے جو سچی نظر رکھتے ہیں، جیسا کہ پہلے تھا؛ اور وہ مقصود محبوب کا چہرہ پھر سے عیاں ہو جائے، جیسا کہ پہلے تھا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر یہ آرزو کرتے ہیں کہ آئینہ پھر سے اُن لوگوں کا سینہ بن جائے جو سچ میں دیکھنے کی نظر رکھتے ہیں — یعنی دل اتنا صاف اور شفاف ہو جائے کہ اُس میں حقیقت کا عکس اُتر سکے۔ 'شاہدِ مقصود' یعنی وہ محبوب، وہ منزل جس کی تلاش ہے، اُس کا چہرہ پھر سے بے نقاب ہو جائے 'جیسا پہلے تھا'۔ اس میں ایک کھوئے ہوئے زمانے کی یاد اور اُس پاکیزگی و روشنی کو دوبارہ پانے کی تمنا ہے، جب سچائی بغیر کسی حجاب کے دکھائی دیتی تھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
