پائے خم مستوں کے ہو حق کا جو عالم ہو سو ہو — خواجہ حیدر علی آتش
“At the foot of the wine-cask, whatever ecstasy of 'Hu' and 'Haqq' the drunkards reach, let it be as it may— That very pulpit of the preacher, his discourse, remains just as it was.”
معنی
خم کے پاس مستوں پر 'ہو' اور 'حق' کا جو بھی عالم طاری ہو، وہ جیسا ہو ویسا رہے؛ واعظ کا وہی منبر اور اُس کا بیان آج بھی ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر دو عالم آمنے سامنے رکھتا ہے — خُم کے پاس جھومتے مستوں کا عالم جہاں 'ہو' اور 'حق' کی صدا میں سچا عشق اور فنا کی کیفیت برپا ہے، اور دوسری طرف واعظ کا منبر جو آج بھی ویسا کا ویسا ہی قائم ہے۔ یہاں شراب محض مے نہیں بلکہ خدا کی مستی اور حق تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ لطیف طنز یہ ہے کہ مستوں کا حال چاہے جو ہو، واعظ کا وہی پرانا، بے روح بیان نہ بدلا اور نہ اُس میں کوئی روحانی حرارت آئی — منبر اپنی جگہ ٹھہرا رہا جبکہ زندگی آگے نکل گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
