Sukhan AI
غزل

کسی کا لاڈلا

کسی کا لاڈلا

یہ غزل جنگ کی تلخ حقیقت اور مادرِ وطن کی آزادی کے لیے سپاہیوں کی قربانی کو بیان کرتی ہے۔ یہ زخمی سپاہیوں کو میدانِ جنگ میں دم توڑتے ہوئے دکھاتی ہے، جو اپنی آخری سانسوں تک آزادی کے نغمے گاتے ہیں، جبکہ اُن کے اہلِ خانہ خون میں لت پت اپنے بہادروں کا سوگ مناتے ہیں۔ یہ نظم سپاہیوں کی حب الوطنی اور اُن کے پیاروں کے گہرے غم کو نمایاں کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
રક્ત ટપકતી સો સો ઝોળી સમરાંગણથી આવે,
[ઢાળ: મરાઠી સાખીનો] રક્ત ટપકતી સો સો ઝોળી સમરાંગણથી આવે,
میدانِ جنگ سے سو سو خون ٹپکتی جھولیاں آ رہی ہیں۔
2
કેસરવરણી સમરસેવિકા કોમલ સેજ બિછાવે: ઘાયલ મરતાં મરતાં રે
زعفرانی رنگ کی جنگجو خادمہ نرم بستر بچھاتی ہے، اور زخمی شخص آہستہ آہستہ مرتے ہوئے ختم ہو رہا ہے۔
3
માતની આઝાદી ગાવે. કોની વનિતા, કોની માતા, ભગિની ટોળે વળતી,
مادر وطن کی آزادی کا گیت گاتی ہے۔ کسی کی بیوی، کسی کی ماں، بہنیں گروہوں میں جمع ہوتی ہیں۔
4
શોણિતભીના પતિ-સુત-વીરની રણશય્યા પર લળતી, મુખથી ખમા ખમા કરતી
شوہر، بیٹے اور بہادر جنگجوؤں کے خون سے تر رزمگاہ کی بستر پر جھکی ہوئی، وہ اپنے منہ سے بار بار 'معاف کرو، معاف کرو' کہہ رہی تھی۔
5
માથે કર મીઠો ધરતી. થોકે થોકે લોક ઊમટતા રણજોદ્ધા જોવાને,
اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔ جنگجو کو دیکھنے کے لیے لوگ جوق در جوق جمع ہو گئے تھے۔
6
શાહબાશીના શબદ બોલતા પ્રત્યેકની પિછાનેઃ નિજ ગૌરવ કેરે ગાને
ہر اس شخص کو پہچاننا جو تعریف کے الفاظ بولتا ہے، یہ ان کی اپنی عظمت کے گیت میں ہوتا ہے۔
7
જખ્મી જન જાગે અભિમાને. સહુ સૈનિકનાં વહાલાં જનનો મળિયો જ્યાં સુખમેળો,
زخمی لوگ فخر سے جاگتے ہیں۔ جہاں تمام سپاہیوں کے پیاروں کا خوشگوار ملاپ ہوا۔
8
છેવાડો ને એક્લવાયો અબોલ એક સૂતેલો: અણપૂછ્યો અણપ્રીછેલો
سب سے کنارے پر اور تنہا، ایک خاموش شخص سویا ہوا ہے: نہ تو اس سے کچھ پوچھا گیا اور نہ ہی اسے پہچانا گیا۔
9
કોઈનો અજાણ લાડીલો. એનું શિર ખોળામાં લેવા કોઈ જનેતા નાવી,
کسی کا نامعلوم لاڈلا۔ اس کا سر گود میں لینے کے لیے کوئی ماں نہیں آئی۔
10
એને સીંચણ તેલ-કચોળાં નવ કોઈ બહેની લાવીઃ કોઈના લાડકવાયાની
کسی کے لاڈلے بچے کے لیے کوئی بہن تیل کے پیالے لے کر نہیں آئی۔
11
કોઈએ ખબરે પુછાવી. ભાલે એને બચીઓ ભરતી લટો સુંવાળી સૂતી,
کسی نے اس کی خبر نہیں پوچھی۔ اس کے ماتھے پر، نرم زلفیں، بوسوں سے بھری ہوئی، نرمی سے سو رہی تھیں۔
12
સનમુખ ઝીલ્યા ઘાવો મહીંથી ટપટપ છાતી ચૂતીઃ કોઈના લાડકવાયાની
سامنے سے جھیلے گئے زخموں سے اُس کا سینہ مسلسل ٹپکتا رہا: کسی کے پیارے بچے کا۔
13
આંખડી અમૃત નીતરતી. કોઈના લાડકવાયાનાં લોચન લોલ બિડાયાં,
آنکھیں جن سے امرت بہتا تھا۔ کسی کے پیارے کی چنچل آنکھیں اب آہستہ سے بند ہو گئی ہیں۔
14
આખરની સ્મૃતિનાં બે આંસુ કપોલ પર ઠેરાયાં: આતમ-દીપક ઓલાયા.
آخر کی یاد کے دو آنسو رخساروں پر ٹھہر گئے: روح کا چراغ بجھ گیا۔
15
ઓષ્ટનાં ગુલાબ કરમાયાં. કોઇના લાડકડા પાસે હળવે પગ સંચરજો,
ہونٹوں کے گلاب مرجھا گئے ہیں۔ کسی کے اس پیارے کے پاس آہستہ قدم رکھنا۔
16
હળવે એના હૈયા ઉપર કર-જોડામણ કરજોઃ પાસે ધૂપસળી ધરજો,
آہستہ سے اس کے دل پر اپنے ہاتھ جوڑ کر رکھیں؛ قریب ہی ایک اگربتی رکھیں۔
17
કાનમાં પ્રભુપદ ઉચ્ચરજો! વીખરેલી લાડકડાની સમારજો લટ ધીરે,
میرے کان میں رب کا نام سرگوشی کرو! آہستہ سے، اس پیارے کے بکھرے بالوں کو سنوارو۔
18
એને ઓષ્ઠ-કપોલે-ભાલે ધરજો ચુંબન ધીરેઃ સહુ માતા ને ભગિની રે!
اس کے ہونٹوں، گالوں اور ماتھے پر آہستہ سے بوسہ دو۔ اے تمام ماؤں اور بہنوں!
19
ગોદ લેજો ધીરે ધીરે! વાંકડિયાં જુલ્ફાની મગરૂબ હશે કો માતા,
اُسے آہستہ آہستہ گود میں لو! ان گھنگھریالے بالوں پر بھلا کون سی ماں فخر نہیں کرے گی؟
20
ગાલોની સુધા પીનારા હોઠ હશે બે રાતાઃ રે! તમ ચુંબન ચોડાતાં
وہ دو سُرخ ہونٹ، جنہوں نے ان گالوں کا امرت پیا تھا، افسوس! جب تمہارے بوسے ان پر ثبت کیے گئے۔
21
પામશે લાડકડો શાતા. લાડકડાની પ્રતિમાનાં છાનાં પૂજન કરતી,
لاڈلا بچہ سکون پائے گا۔ وہ چپکے سے اس لاڈلے بچے کے بت کی پوجا کرتی تھی۔
22
એની રક્ષા કાજ અહર્નિશ પ્રભુને પાયે પડતી, ઉરની એકાન્તે રડતી
اُس کی حفاظت کے لیے، دن رات وہ پربھو کے قدموں میں گرتی تھی، اپنے دل کی تنہائی میں روتی تھی۔
23
વિજોગણ હશે દિનો ગણતી. કંકાવટીએ આંસુ ઘોળી છેલ્લું તિલક કરંતા,
وہ جدائی زدہ دنوں کو گن رہی ہوگی۔ وہ کُمکُم میں آنسو ملا کر اپنا آخری تلک کر رہی ہے۔
24
એને કંઠ વીંટાયા હોશે કર બે કંકણવંતાઃ વસમાં વળામણાં દેતા,
اُس کے گلے میں دو کنگن والے ہاتھ لپٹ گئے ہوں گے، دردناک وداع کرتے ہوئے۔
25
બાથ ભીડી બે પળ લેતા. એની કૂચકદમ જોતી અભિમાનભરી મલકાતી,
انہوں نے گلے لگایا اور ایک مختصر لمحے کے لیے مضبوطی سے تھامے رکھا۔ وہ اس کے مارچنگ قدموں کو فخر بھری مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتی رہی۔
26
જોતી એની રુધિર-છલકતી ગજ ગજ પહોળી છાતી, અધબીડ્યાં બારણિયાંથી
نیم وا دروازوں سے میں نے اس کا گز گز چوڑا، خون سے چھلکتا سینہ دیکھا۔
27
રડી કો હશે આંખ રાતી. એવી કોઈ પ્રિયાનો પ્રીતમ આજ ચિતા પર પોઢે,
یہ کس کی آنکھیں ہیں جو رونے سے سُرخ ہو گئی ہیں؟ آج ایسی ہی کسی محبوبہ کا محبوب چتا پر سو رہا ہے۔
28
એકલડો ને અણબૂઝેલો અગન-પિછોડી ઓઢેઃ કોઈના લાડકવાયાને
اکیلا اور انجان، کوئی لاڈلا بچہ انجانے میں آگ کی چادر اوڑھ لیتا ہے، جو شدید خطرے یا خود لائی گئی تکلیف کو ظاہر کرتا ہے۔
29
ચૂમે પાવકજ્વાલા મોઢે. એની ભસ્માંકિત ભૂમિ પર ચણજો આરસ-ખાંભી,
آگ کے شعلوں کو براہ راست چومو۔ اس کی راکھ سے نشان زدہ زمین پر ایک سنگ مرمر کا ستون کھڑا کرو۔
30
પથ્થર પર કોતરશો નવ કોઈ કવિતા લાંબી; લખજો: 'ખાક પડી આંહીં
اس پتھر پر کوئی لمبی نظم مت کندہ کرنا۔ بس یہ لکھنا: 'یہاں خاک پڑی ہے'۔
31
કોઈના લાડકવાયાની.’
کسی کے پیارے بچے کا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.