“Bending over the blood-soaked battlefield bed of her husband, son, and valiant ones, From her mouth, she cried, 'forgive me, forgive me!'”
شوہر، بیٹے اور بہادر جنگجوؤں کے خون سے تر رزمگاہ کی بستر پر جھکی ہوئی، وہ اپنے منہ سے بار بار 'معاف کرو، معاف کرو' کہہ رہی تھی۔
یہ دوہا جنگ کے ایک دل دہلا دینے والے منظر کو پیش کرتا ہے، جہاں ایک عورت اپنے خون میں لت پت شوہر، بیٹے اور دیگر بہادروں کی لاشوں پر جھکی ہوئی ہے۔ "رَن شَیّا" (جنگ کا بستر) کی تشبیہ میدانِ جنگ کو ان ہیروز کے آخری آرام گاہ کے طور پر دکھاتی ہے، جو نہایت دل سوز ہے۔ اس کے منہ سے بار بار نکلنے والی "خَما خَما" (مجھے معاف کر دو، مجھے معاف کر دو!) کی پکار کسی مخصوص غلطی کے لیے نہیں ہے، بلکہ گہرے غم، بے بسی اور شاید اپنے پیاروں کو اس ظالم قسمت سے نہ بچا پانے کی شدید حسرت کا اظہار ہے۔ یہ جنگ کی ذاتی اور تباہ کن قیمت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
