“For its protection, day and night, at the Lord's feet she would fall,Weeping in her heart's solitude, beyond all call.”
اُس کی حفاظت کے لیے، دن رات وہ پربھو کے قدموں میں گرتی تھی، اپنے دل کی تنہائی میں روتی تھی۔
یہ شعر بے لوث محبت اور گہری عقیدت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ اس میں کوئی شخص، شاید ایک ماں یا ایک محبوبہ، اپنے کسی پیارے کی حفاظت کے لیے دن رات خدا کے قدموں میں گر کر دعا مانگتا ہے۔ سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والی بات یہ ہے کہ وہ اپنے دل کی تنہائی میں روتی ہے، ایک خاموش درد اور امید جو کوئی اور نہیں دیکھ پاتا۔ یہ ان چھپی ہوئی قربانیوں اور پریشانیوں کو ظاہر کرتا ہے جو ہم اپنے عزیزوں کے لیے اپنے اندر رکھتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
