“Those lips, two red, that drank the nectar of her cheek,Alas! when your fond kisses were impressed.”
وہ دو سُرخ ہونٹ، جنہوں نے ان گالوں کا امرت پیا تھا، افسوس! جب تمہارے بوسے ان پر ثبت کیے گئے۔
یہ شعر محبوب کے ہونٹوں کی لالی اور ان کے لمس کی مٹھاس کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محبوبہ کے گالوں کا امرت پینے والے یہ سرخ ہونٹ کتنے حسین رہے ہوں گے۔ 'ہائے!' کا اظہار ماضی کے لمحوں کی کسک یا اس میٹھی چھو کی یاد میں چھپی ایک ٹیس کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ ان بوسوں کی نرم یاد ہے جو اب صرف ایک حسرت بن کر رہ گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
