Sukhan AI
غزل

مری ہستی فضاِء حیرت آبادِ تمنا ہے

مری ہستی فضاِء حیرت آبادِ تمنا ہے
مرزا غالب· Ghazal· 24 shers· radif: है

یہ غزل زندگی کو خواہشات کا ایک حیرت انگیز مگر غمگین ٹھکانہ قرار دیتی ہے، جہاں شاعر خود کو ہمیشہ قفس میں قید، موسموں کی پرواہ کیے بغیر کھوئی ہوئی آزادی کا ماتم کرتا پاتا ہے۔ یہ محبوبوں کی وفا کی اتفاقی نوعیت اور ٹوٹے ہوئے دلوں کی اکثر ان سنی فریادوں کا ذکر کرتی ہے۔ گہری مایوسی کے باوجود، انسانی روح، افسوس کے ذریعے بھی، اپنی خواہشات کی تجدید کا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मिरी हस्ती फ़ज़ा-ए-हैरत आबाद-ए-तमन्ना है जिसे कहते हैं नाला वो इसी 'आलम का 'अन्क़ा है
میری ہستی تمناؤں سے بھری حیرت زدہ دنیا کا وسیع میدان ہے؛ جسے نالہ کہتے ہیں، وہ اسی دنیا کا عنقا ہے۔
2
ख़िज़ाँ क्या फ़स्ल-ए-गुल कहते हैं किस को कोई मौसम हो वही हम हैं क़फ़स है और मातम बाल-ओ-पर का है
ہمارے لیے خزاں یا فصلِ گل کیا ہیں، لوگ انہیں کیا کہتے ہیں؟ کوئی بھی موسم ہو، ہم ویسے ہی ہیں، یہ قفس ہے اور ہمارے بال و پر کا ماتم ہے۔
3
वफ़ा-ए-दिलबराँ है इत्तिफ़ाक़ी वर्ना ऐ हमदम असर फ़रियाद-ए-दिल-हा-ए-हज़ीं का किस ने देखा है
اے ہمدم، دلبروں کی وفا محض اتفاقی ہوتی ہے، ورنہ غمگین دلوں کی فریاد کا اثر کس نے دیکھا ہے؟
4
न लाई शोख़ी-ए-अंदेशा ताब-ए-रंज-ए-नौमीदी कफ़-ए-अफ़सोस मलना अहद-ए-तज्दीद-ए-तमन्ना है
ذہن کی شوخی مایوسی کے غم کو برداشت نہ کر سکی۔ کفِ افسوس ملنا درحقیقت خواہشات کی تجدید کا عہد ہے۔
5
तग़फ़ुल-मशरबी से ना-तमामी बस-कि पैदा है निगाह-ए-नाज़ चश्म-ए-यार में ज़ुन्नार-ए-मीना है
تغافل کی عادت سے بہت زیادہ نامکمل پن پیدا ہوتا ہے۔ محبوب کی آنکھ میں ناز بھری نگاہ شراب کے پیالے پر بنی زنار (باریک لکیر) جیسی ہے۔
6
तसर्रुफ़ वहशियों में है तसव्वुर-हा-ए-मजनूँ का सवाद-ए-चश्म-ए-आहू अक्स-ए-ख़ाल-ए-रू-ए-लैला है
مجنوں کے تصورات اور خیالات وحشیوں پر بھی اثر رکھتے ہیں۔ ہرن کی آنکھ کی پُتلی دراصل لیلیٰ کے چہرے پر موجود تل کا عکس ہے۔
7
मोहब्बत तर्ज़-ए-पैवंद-ए-निहाल-ए-दोस्ती जाने दवीदन रेशा साँ मुफ़्त-ए-रग-ए-ख़्वाब-ए-ज़ुलेख़ा है
محبت کو دوستی کے پودے میں پیوند لگانے کی کلا کو جاننا چاہیے۔ ورنہ، زلیخا کے خواب کی رگوں میں جڑ کی طرح پھیلنا بالکل بے فائدہ ہے۔
8
किया यक-सर गुदाज़-दिल नियाज़-ए-जोशिश-ए-हसरत सुवैदा नुस्ख़ा-ए-तह-बंदी-ए-दाग़-ए-तमन्ना है
شدید حسرت کے جوش نے دل کو پوری طرح پگھلا دیا ہے۔ دل کا سیاہ نقطہ، سُویدا، تمنا کے مستقل داغ کے لیے ایک نسخہ ہے۔
9
हुजूम-ए-रेज़िश-ए-ख़ूँ के सबब रंग उड़ नहीं सकता हिना-ए-पंजा-ए-सैय्याद मुर्ग़-ए-रिश्ता बर-पा है
خون کے کثرت سے بہنے کے سبب رنگ اُڑ نہیں سکتا۔ شکاری کے ہاتھ پر لگی مہندی ہی گویا بندھا ہوا پرندہ ہے۔
10
'असद' गर नाम-ए-वाला-ए-'अली ता'वीज़-ए-बाज़ू हो ग़रीक़-ए-बहर-ए-ख़ूँ-तिमसाल दर-आईना रहता है
اگر اسد کے بازو پر حضرت علی کا بلند نام ایک تعویز بن جائے، تو بھی لہو کے سمندر میں ڈوبے ہوئے شخص کا عکس آئینے میں رہتا ہے۔
11
असर सोज़-ए-मोहब्बत का क़यामत बे-मुहाबा है कि रग से संग में तुख़्म-ए-शरर का रेशा पैदा है
محبت کی سوزش کا اثر نہایت بے باک اور گہرا ہوتا ہے، یہاں تک کہ پتھر کی رگوں سے بھی چنگاری کے بیج کی جڑ پیدا ہو سکتی ہے۔
12
निहाँ है गौहर-ए-मक़्सूद जेब-ए-ख़ुद-शनासी में कि याँ ग़व्वास है तिमसाल और आईना दरिया है
مقصود کا موتی خود شناسی کی گود میں چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ یہاں غواص اپنی ہی شبیہ ہے اور آئنہ ہی دریا ہے۔
13
'अज़ीज़ो ज़िक्र-ए-वस्ल-ए-ग़ैर से मुझ को न बहलाओ कि याँ अफ़्सून-ए-ख़्वाब अफ़्साना-ए-ख़्वाब-ए-ज़ुलेख़ा है
اے عزیزو، مجھے غیروں کے وصل کے ذکر سے مت بہلاؤ، کیونکہ یہاں نیند کا افسوں بھی زلیخا کے خواب کے افسانے جیسا ہے۔
14
तसव्वुर बहर-ए-तस्कीन-ए-तपीदन-हा-ए-तिफ़्ल-ए-दिल ब-बाग़-ए-रंग-हा-ए-रफ़्ता गुल-चीन-ए-तमाशा है
تصور، بچے جیسے دل کی بے چین دھڑکنوں کو تسکین دینے کے لیے، گزرے ہوئے رنگوں کے باغ سے پرانے نظاروں کے پھول چنتا ہے۔
15
ब-सइ-ए-ग़ैर है क़त-ए-लिबास-ए-ख़ाना-वीरानी कि नाज़-ए-जादा-ए-रह रिश्ता-ए-दामान-ए-सहरा है
دوسروں کی کوششوں سے گھر کی بربادی کا لباس پھٹ جاتا ہے، کیونکہ راستے کا فخر خود ہی صحرا کے دامن کا ایک دھاگا ہے۔
16
मुझे शब हाए तारीक फ़िराक़ शो'ला रूयाँ में चराग़-ए-ख़ाना-ए-दिल सोज़िश-ए-दाग़-ए-तमन्ना है
شعلہ رو محبوبوں سے جدائی کی ان تاریک راتوں میں، دل کے گھر کا چراغ تمناؤں کے داغوں کی جلن ہے۔
17
तिरे नौकर तिरे दर पर 'असद' को ज़ब्ह करते हैं सितमगर नाख़ुदा तरस-आश्ना-कुश माजरा क्या है
آپ کے نوکر 'اسد' کو آپ ہی کے دروازے پر ذبح کر رہے ہیں۔ اے ظالم، بے خدا، بے رحم، اور دوستوں کے قاتل، یہ کیا معاملہ ہے؟
18
ब-बज़्म मय-परस्ती हसरत-ए-तकलीफ़ बे-जा है कि जाम-ए-बादा कफ़ बर-लब ब-तकलीफ़-तक़ाज़ा है
مے پرستوں کی محفل میں بے وجہ تکلیف کی حسرت کرنا بے کار ہے، کیونکہ شراب کا پیالہ جس کے لبوں پر کف ہے، وہ خود ایک تکلیف دہ تقاضا ہے۔
19
नशात-ए-दीदा-ए-बीना है को ख़्वाब व चे बेदारी बहम-आवर्दा मिज़्गाँ बोसा-ए-रू-ए-तमाशा है
بصیرت والی آنکھ کی خوشی، خواہ وہ خواب میں ہو یا بیداری میں، پلکوں کا آپس میں ملنا ہے، جو کہ نظارے کے چہرے کو بوسہ دینا ہے۔
20
न लाई शोख़ी-ए-अंदेशा ताब-ए-दर्द-ए-नौमीदी कफ़-ए-अफ़सोस सौ दिन 'अह्द तज्दीद-ए-तमन्ना है
خیال کی شوخی مایوسی کے درد کو برداشت نہ کر سکی۔ سو دن تک افسوس سے ہاتھ ملنا تمنا کے وعدے کی تجدید کرتا ہے۔
21
निगह मे'मार-ए-हसरत-हा चे आबादी चे वीरानी कि मिज़्गाँ जिस तरफ़ वा हो ब-कफ़-ए-दामान-ए-सहरा है
میری نگاہ، آرزوؤں کی معمار، آبادی اور ویرانی دونوں بناتی ہے۔ کیونکہ میری پلکیں جس طرف بھی کھلتی ہیں، سامنے ہمیشہ صحرا کا دامن ہی ہوتا ہے۔
22
न सोवे आबलों में गर सरिश्क-ए-दीदा-ए-नाम से ब-जौलाँ-गाह-ए-नौमीदी निगाह-ए-आजिज़ाँ पा है
اگر نم آنکھوں کے آنسو چھالوں میں نہیں ٹھہرتے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بے بس نگاہ نے مایوسی کے وسیع میدان کو پالیا ہے۔
23
ब-सख़्ती-हा-ए-क़ैद-ए-ज़िंदगी मा'लूम आज़ादी शरर दर-बंद-ए-दाम-ए-रिश्ता-ए-रग-हा-ए-ख़ारा है
آزادی زندگی کی سخت قیدوں سے ہی معلوم ہوتی ہے، بالکل اُسی طرح جیسے ایک چنگاری چقماق کے پتھر کی رگوں کے جال میں قید ہو۔
24
'असद' यास-ए-तमन्ना से न रख उम्मीद-ए-आज़ादी गुदाज़-ए-आरज़ू-हा आब-यार-ए-आरज़ू-हा है
اسد، خواہشوں کی مایوسی سے آزادی کی امید نہ رکھ، کیونکہ خواہشوں کا پگھلنا ہی انہیں نکھارتا اور مضبوط کرتا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

مری ہستی فضاِء حیرت آبادِ تمنا ہے | Sukhan AI