मोहब्बत तर्ज़-ए-पैवंद-ए-निहाल-ए-दोस्ती जाने
दवीदन रेशा साँ मुफ़्त-ए-रग-ए-ख़्वाब-ए-ज़ुलेख़ा है
“Let love but know the art, how friendship's plant to graft; Else, to spread like a root through Zulaikha's dream-vein, is all in vain.”
— مرزا غالب
معنی
محبت کو دوستی کے پودے میں پیوند لگانے کی کلا کو جاننا چاہیے۔ ورنہ، زلیخا کے خواب کی رگوں میں جڑ کی طرح پھیلنا بالکل بے فائدہ ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
