'असद' यास-ए-तमन्ना से न रख उम्मीद-ए-आज़ादी
गुदाज़-ए-आरज़ू-हा आब-यार-ए-आरज़ू-हा है
“Asad, from the despair of yearning, expect no freedom; The very melting of desires is the temper of desires.”
— مرزا غالب
معنی
اسد، خواہشوں کی مایوسی سے آزادی کی امید نہ رکھ، کیونکہ خواہشوں کا پگھلنا ہی انہیں نکھارتا اور مضبوط کرتا ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev24 / 24
