तग़फ़ुल-मशरबी से ना-तमामी बस-कि पैदा है
निगाह-ए-नाज़ चश्म-ए-यार में ज़ुन्नार-ए-मीना है
“From the habit of neglect, so much imperfection springs,The charming glance in the beloved's eye, a wine-glass's sacred thread brings.”
— مرزا غالب
معنی
تغافل کی عادت سے بہت زیادہ نامکمل پن پیدا ہوتا ہے۔ محبوب کی آنکھ میں ناز بھری نگاہ شراب کے پیالے پر بنی زنار (باریک لکیر) جیسی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
