غزل
دل کو درد آشنا کیا تو نے
دل کو درد آشنا کیا تو نے
یہ غزل محبوبِ حقیقی کے حضور عجز، شکر گزاری اور گہری عقیدت کا اظہار ہے، جس نے دل کو درد آشنا کر کے اسی درد کو دوا بنا دیا۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ عشق اور وفا کی دولت نے خاک کے پُتلے یعنی انسان کو کیمیا بنا کر اشرف ترین مرتبہ عطا کیا۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
दिल को दर्द-आश्ना किया तू ने
दर्द-ए-दिल को दवा किया तू ने
دل کو درد آشنا کیا تو نے
درد دل کو دوا کیا تو نے
تو نے میرے دل کو درد سے شناسا کیا اور پھر دل کے اسی درد کو دوا بنا دیا۔
2
तब-ए-इंसाँ को दी सिरिश्त-ए-वफ़ा
ख़ाक को कीमिया किया तू ने
طبع انساں کو دی سرشت وفا
خاک کو کیمیا کیا تو نے
تو نے انسان کی طبیعت کو وفا کی فطرت عطا کی اور خاک کو کیمیا یعنی سونا بنا دیا۔
3
वस्ल-ए-जानाँ मुहाल ठहराया
क़त्ल-ए-आशिक़ रवा किया तू ने
وصل جاناں محال ٹھہرایا
قتل عاشق روا کیا تو نے
تم نے محبوب سے ملن کو تو ناممکن بنا دیا، لیکن عاشق کا قتل کرنا جائز ٹھہرا دیا۔
4
था न जुज़ ग़म बिसात-ए-आशिक़ में
ग़म को राहत-फ़ज़ा किया तू ने
تھا نہ جز غم بساط عاشق میں
غم کو راحت فزا کیا تو نے
عاشق کے پاس دکھ اور درد کے سوا کچھ نہ تھا، لیکن تم نے اسی غم کو بھی باعثِ راحت اور سکون بنا دیا۔
5
जान थी इक वबाल फ़ुर्क़त में
शौक़ को जाँ-गुज़ा किया तू ने
جان تھی اک وبال فرقت میں
شوق کو جاں گزا کیا تو نے
جدائی میں زندگی پہلے ہی ایک عذاب بنی ہوئی تھی، اور تم نے میری خواہش و تڑپ کو جان لیوا بنا دیا۔
6
थी मोहब्बत में नंग मिन्नत-ए-ग़ैर
जज़्ब-ए-दिल को रसा किया तू ने
تھی محبت میں ننگ منت غیر
جذب دل کو رسا کیا تو نے
محبت میں کسی دوسرے کی منت سماجت کرنا باعثِ عار تھا، لیکن تو نے میرے دل کے جذبے اور تڑپ کو اتنا بااثر بنا دیا کہ وہ سیدھا تجھ تک پہنچ گیا۔
7
राह ज़ाहिद को जब कहीं न मिली
दर-ए-मय-ख़ाना वा किया तू ने
راہ زاہد کو جب کہیں نہ ملی
در مے خانہ وا کیا تو نے
جب زاہد کو کہیں کوئی راستہ نہ ملا، تو تو نے اس کے لیے مے خانے کا دروازہ کھول دیا۔
8
क़त्अ होने ही जब लगा पैवंद
ग़ैर को आश्ना किया तू ने
قطع ہونے ہی جب لگا پیوند
غیر کو آشنا کیا تو نے
جیسے ہی ہمارا تعلق ٹوٹنے کے قریب پہنچا، تم نے کسی غیر کو اپنا قریبی اور شناسا بنا لیا۔
9
थी जहाँ कारवाँ को देनी राह
इश्क़ को रहनुमा किया तू ने
تھی جہاں کارواں کو دینی راہ
عشق کو رہنما کیا تو نے
جہاں قافلے کو راستہ دکھانا تھا، وہاں تم نے عشق کو اس کا رہنما بنا دیا۔
10
नाव भर कर जहाँ डुबोनी थी
अक़्ल को नाख़ुदा किया तू ने
ناؤ بھر کر جہاں ڈبونی تھی
عقل کو ناخدا کیا تو نے
جہاں بھری ہوئی ناؤ کو ڈبونا مقصود تھا، وہاں تم نے عقل کو کشتی کا ملاح بنا دیا۔
11
बढ़ गई जब पिदर को मेहर-ए-पिसर
उस को उस से जुदा किया तू ने
بڑھ گئی جب پدر کو مہر پسر
اس کو اس سے جدا کیا تو نے
جب باپ کے دل میں اپنے بیٹے کی محبت بہت بڑھ گئی، تو تو نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔
12
जब हुआ मुल्क ओ माल रहज़न-ए-होश
बादशह को गदा किया तू ने
جب ہوا ملک و مال رہزن ہوش
بادشہ کو گدا کیا تو نے
جب ملک اور دولت نے عقل و ہوش چھین لیے، تو تو نے اس بادشاہ کو بھی فقیر بنا دیا۔
13
जब मिली काम-ए-जाँ को लज़्ज़त-ए-दर्द
दर्द को बे-दवा किया तू ने
جب ملی کام جاں کو لذت درد
درد کو بے دوا کیا تو نے
جوں ہی میری جان کو درد کا مزہ ملنے لگا، تو نے اس درد کو لاعلاج بنا دیا۔
14
जब दिया राह-रौ को ज़ौक़-ए-तलब
सई को ना-रसा किया तू ने
جب دیا راہرو کو ذوق طلب
سعی کو نارسا کیا تو نے
جب تو نے مسافر کو طلب و جستجو کا شوق دیا، تو اس کی کوشش کو منزل تک پہنچنے سے قاصر کر دیا۔
15
पर्दा-ए-चश्म थे हिजाब बहुत
हुस्न को ख़ुद-नुमा किया तू ने
پردۂ چشم تھے حجاب بہت
حسن کو خود نما کیا تو نے
آنکھوں کے آگے پہلے ہی بہت سے پردے موجود تھے، مگر تُو نے حسن کو خود کو ظاہر کرنے والا بنا دیا۔
16
इश्क़ को ताब-ए-इंतिज़ार न थी
ग़ुर्फ़ा इक दिल में वा किया तू ने
عشق کو تاب انتظار نہ تھی
غرفہ اک دل میں وا کیا تو نے
عشق میں انتظار کی ہمت یا طاقت نہیں تھی، اس لیے تم نے دل کے اندر ایک کھڑکی کھول دی۔
17
हरम आबाद और दैर ख़राब
जो किया सब बजा किया तू ने
حرم آباد اور دیر خراب
جو کیا سب بجا کیا تو نے
تو نے حرم کو آباد رکھا اور بت خانے کو ویران کر دیا؛ تو نے جو کچھ بھی کیا، بالکل درست اور بجا کیا۔
18
सख़्त अफ़्सुर्दा तब्अ' थी अहबाब
हम को जादू नवा किया तू ने
سخت افسردہ طبع تھی احباب
ہم کو جادو نوا کیا تو نے
اے دوستو! میری طبیعت سخت اداس اور افسردہ تھی، لیکن تم نے مجھے سحر انگیز آواز والا بنا دیا۔
19
फिर जो देखा तो कुछ न था या रब
कौन पूछे कि क्या किया तू ने
پھر جو دیکھا تو کچھ نہ تھا یا رب
کون پوچھے کہ کیا کیا تو نے
اے میرے رب، جب میں نے دوبارہ دیکھا تو کچھ بھی باقی نہ تھا؛ اب تجھ سے یہ پوچھنے والا کون ہے کہ تو نے کیا کیا۔
20
'हाली' उट्ठा हिला के महफ़िल को
आख़िर अपना कहा किया तू ने
حالیؔ اٹھا ہلا کے محفل کو
آخر اپنا کہا کیا تو نے
اے حالی! تو پوری محفل کو ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا، اور آخرکار تو نے وہی کر دکھایا جو تو نے کہا تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
