“When the ascetic found no path left anywhere, You threw wide open the door of the tavern.”
جب زاہد کو کہیں کوئی راستہ نہ ملا، تو تو نے اس کے لیے مے خانے کا دروازہ کھول دیا۔
اس شعر میں شاعر نے زاہد یعنی ظاہر دار پارسا پر بڑی خوبصورت چوٹ کی ہے۔ زاہد جب اپنی سخت عبادتوں اور اصولوں میں بھٹک گیا اور اسے سچی منزل کی کوئی راہ نہ ملی، تو خدا نے اس کے لیے مے خانے کا دروازہ کھول دیا۔ تصوف کی علامت نگاری میں مے خانہ دراصل عشقِ حقیقی اور روحانی آزادی کی علامت ہے، جہاں انسان ریاکاری چھوڑ کر اپنے رب کے عشق میں فنا ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
