“Just as the bond between us was about to sever, you took a stranger and made them your confidant forever.”
جیسے ہی ہمارا تعلق ٹوٹنے کے قریب پہنچا، تم نے کسی غیر کو اپنا قریبی اور شناسا بنا لیا۔
اس شعر میں 'پیوند' کا خوبصورت استعارہ تعلق کے اس نازک جوڑ کے لیے لایا گیا ہے جو پہلے ہی اکھڑنے اور ٹوٹنے کے قریب تھا۔ شاعر محبوب سے شکوہ کرتا ہے کہ جب ہمارا رشتہ دم توڑ رہا تھا، عین اسی لمحے تم نے کسی غیر کو اپنا محرمِ راز بنا لیا۔ یہ دل کے اس دکھ کا بیان ہے جہاں بکھرتے ہوئے تعلق کو سنبھالنے کے بجائے انسان کو بڑی بے رخی سے کسی اجنبی کے بدلے نظر انداز کر دیا جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
