“When I looked again, there was nothing, O Lord—who is left to question what You have done?”
اے میرے رب، جب میں نے دوبارہ دیکھا تو کچھ بھی باقی نہ تھا؛ اب تجھ سے یہ پوچھنے والا کون ہے کہ تو نے کیا کیا۔
یہ شعر ہستی کی ناپائیداری اور اچانک فنا کا ایسا دلدوز منظر پیش کرتا ہے جو انسان کو ششدر کر دے۔ شاعر دیکھتا ہے کہ آنکھ جھپکتے ہی ساری رونقیں مٹ گئیں اور چار سو ایک لامتناہی سناٹا چھا گیا۔ اس مطلق فنا کے عالم میں خدا کی بے پایاں قدرت کے آگے کوئی شکوہ کرنے یا سوال اٹھانے والا بھی باقی نہیں بچا، جو انسانی بے بسی کا انتہا کا اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
