“In separation, life was already an affliction to bear; yet you turned my desire into a torment that consumes the soul.”
جدائی میں زندگی پہلے ہی ایک عذاب بنی ہوئی تھی، اور تم نے میری خواہش و تڑپ کو جان لیوا بنا دیا۔
اس شعر میں ہجر کی اس اذیت ناک کیفیت کا ذکر ہے جہاں محض زندہ رہنا ہی ایک عذاب اور بوجھ بن چکا تھا۔ عاشق کا گلہ ہے کہ جدائی کا روگ تو اپنی جگہ تھا، مگر محبوب نے دل میں چاہت کی آگ اس قدر تیز کر دی کہ اب وہی شوق روح کو گھلانے اور جان لینے پر تلا ہے۔ یہ عشق کا وہ کٹھن موڑ ہے جہاں دل کی تڑپ ہی دھیرے دھیرے عاشق کے وجود کو اندر سے مٹانے لگتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
