“You endowed the human nature with the essence of fidelity; you transmuted mere dust into gold by your wondrous alchemy.”
تو نے انسان کی طبیعت کو وفا کی فطرت عطا کی اور خاک کو کیمیا یعنی سونا بنا دیا۔
اس شعر میں شاعر خالقِ کائنات کے حضور شکر گزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان تو محض خاک کا ایک بے وقعت پتلا تھا، مگر تو نے اس کی فطرت میں محبت اور وفا کی چنگاری رکھ کر اسے انمول بنا دیا۔ یہ کیمیا گری کا ایسا معجزہ ہے جس نے حقیر مٹی کو خالص سونا بنا کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کر دیا۔ یہ خوبصورت خیال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل قیمت اس کے اخلاص اور جذبۂ وفا میں پنہاں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
