“When You bestowed upon the traveler the passion to seek, You rendered all striving futile and unable to reach.”
جب تو نے مسافر کو طلب و جستجو کا شوق دیا، تو اس کی کوشش کو منزل تک پہنچنے سے قاصر کر دیا۔
یہ شعر وجودی کشمکش اور باری تعالیٰ سے ایک بڑے پیار بھرے شکوے کی خوبصورت تصویر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تو نے مسافر کے دل میں تلاش و جستجو کی بے قرار تڑپ بھر دی، تو پھر اس کی دوڑ دھوپ کو منزل تک پہنچنے سے محروم کیوں رکھا؟ یہ انسان کی اس ازلی بے بسی کا بیان ہے جہاں پیاس تو لامحدود عطا کی گئی، مگر لبوں کو تسکین تک پہنچنے کا مقدر نہ ملا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
