“Where the caravan needed to be shown the way, / You appointed Love to be its guide.”
جہاں قافلے کو راستہ دکھانا تھا، وہاں تم نے عشق کو اس کا رہنما بنا دیا۔
اس شعر میں شاعر نے زندگی کے سفر کو ایک کارواں سے تعبیر کیا ہے جسے اپنی منزل کے لیے رہنمائی کی ضرورت تھی۔ عقل اور مصلحت کے بجائے، آپ نے عشق کو رہنما بنا دیا، جو اپنے دیوانے پن اور بے باکی کے لیے جانا جاتا ہے۔ دراصل شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ جب عشق رہبر بن جائے تو سفر محض منزل پانے کا نام نہیں رہتا، بلکہ خود سپردگی اور روحانی نکھار کا ایک لازوال تجربہ بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
