وصل جاناں محال ٹھہرایا قتل عاشق روا کیا تو نے

“Union with the beloved you deemed impossible to be, / Yet the slaying of the lover you sanctioned lawfully.”

— الطاف حسین حالی
معنی

تم نے محبوب سے ملن کو تو ناممکن بنا دیا، لیکن عاشق کا قتل کرنا جائز ٹھہرا دیا۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کے اس بے رحم فیصلے کا گلہ بڑے پیار اور شکوے کے ساتھ کر رہا ہے۔ محبوب نے وصل یعنی ملن کو تو ناممکن اور ممنوع قرار دے دیا، لیکن ہجر کی تڑپ میں عاشق کی جان لینے کو بالکل جائز اور روا ٹھہرا دیا۔ یہ محبت کے اس انوکھے دستور پر گہری چوٹ ہے جہاں چاہت کو جرم اور عاشق کی بربادی کو معمول سمجھ لیا جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.