“You rose, O Hali, shaking the assembly to its core; / In the end, you did just what you had declared before.”
اے حالی! تو پوری محفل کو ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا، اور آخرکار تو نے وہی کر دکھایا جو تو نے کہا تھا۔
حالیؔ اس شعر میں خود کلامی کے دلکش انداز میں اپنے مشن کی کامیابی کا احساس دلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم نے بے حس اور غافل محفل کو اپنے درد بھرے کلام سے جھنجھوڑ کر بالآخر اپنا کہا سچ کر دکھایا۔ یہ شعر ایک ایسے مخلص مصلح اور شاعر کی داستان ہے جو روایتی خاموشی کو توڑ کر بیداری کا طوفان برپا کرنے کا عزم رکھتا تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
