جب ہوا ملک و مال رہزن ہوش بادشہ کو گدا کیا تو نے

“When realm and wealth turned plunderers of his sense, You brought the sovereign king to a beggar's state.”

— الطاف حسین حالی
معنی

جب ملک اور دولت نے عقل و ہوش چھین لیے، تو تو نے اس بادشاہ کو بھی فقیر بنا دیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دنیاوی جاہ و جلال کی بے ثباتی اور تکبر کے انجام پر بات کر رہے ہیں۔ جب کسی بادشاہ کی بے پناہ دولت اور سلطنت اس کے ہوش و حواس کی راہزن بن کر اسے غرور میں اندھا کر دیتی ہے، تو قدرت یا عشق کی ایک ہی گردش اسے پل بھر میں فقیر بنا دیتی ہے۔ یہ دراصل ایک پیار بھرا سبق ہے کہ انسان کا دبدبہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اصل سچائی عاجزی میں ہے کیونکہ تکبر کا انجام ہمیشہ زوال ہی ہوتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.