غزل
शिकवा करूँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का
शिकवा करूँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का
شاعر اپنے محبوب سے شکایت کرتا ہے کہ وہ اپنے فراق میں کب تک رنج و غم سہتا رہے گا۔ وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ اور وقت کے کٹھن کھیل کا ذکر کرتا ہے، جس میں ہر چیز کا رنگ بدل جاتا ہے۔ یہ نظم دل کی گہری پریشانی اور ٹوٹے ہوئے حال کا ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
शिकवा करूँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का
अल-क़िस्सा रफ़्ता रफ़्ता दुश्मन हुआ है जाँ का
میں کب تک اپنے پیارے کی مہربانی کی شکایت کرتا رہوں، کیونکہ میری کہانی آہستہ آہستہ میری دشمن بن گئی ہے۔
2
गिर्ये पे रंग आया क़ैद-ए-क़फ़स से शायद
ख़ूँ हो गया जिगर में अब दाग़ गुल्सिताँ का
شاید گِردے پہ رنگ آیا قیدِ قفس سے شاید؛ یا شاید گلستان کا داغ اب جگر میں خون ہو گیا۔
3
ले झाड़ू टोकरा ही आता है सुबह होते
जारूब-कश मगर है ख़ुर्शीद उस के हाँ का
صبح ہوتے لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے، مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا۔
4
दी आग रंग-ए-गुल ने वाँ ऐ सबा चमन को
याँ हम जले क़फ़स में सुन हाल आशियाँ का
اے شبنم، گل کے رنگ سے تو نے چمن کو رنگ دیا؛ یہاں ہم قفس میں جل رہے ہیں، آشیانہ کا حال سن۔
5
हर सुब्ह मेरे सर पर इक हादिसा नया है
पैवंद हो ज़मीं का शेवा इस आसमाँ का
ہر صبح میرے سر پر کوئی نیا واقعہ ہوتا ہے، کاش زمین اور آسمان دونوں کا پردہ گر جائے۔
6
इन सैद-अफ़गनों का क्या हो शिकार कोई
होता नहीं है आख़िर काम उन के इम्तिहाँ का
ان سید-افغانوں کا کیا ہو شکار کوئی، مطلب ان لوگوں کا کوئی شکار کیا کرے گا؟ / اور آخر میں، انہیں آزمانے کا کوئی کام نہیں ہے۔
7
तब तो मुझे किया था तीरों से सैद अपना
अब करते हैं निशाना हर मेरे उस्तुख़्वाँ का
پہلے تو مجھے تیروں سے ساد اپنا کیا تھا، اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخوان کا۔
8
फ़ितराक जिस का अक्सर लोहू में तर रहे है
वो क़स्द कब करे है इस सैद-ए-नातवाँ का
جس کا خون اکثر فطری طور پر بہہ رہا ہے، وہ اس سیّدِ نعتوان کا کوئی جان بوجھ کر ارادہ کب کرے گا؟
9
कम-फ़ुर्सती जहाँ के मजमे' की कुछ न पूछो
अहवाल क्या कहूँ मैं इस मजलिस-ए-रवाँ का
کم-فُرستی جہاں کے مجمے کی کچھ نہ پوچھو، احوال کیا کہوں میں اس مَجْلِسِ-ए-रवाँ کا۔
10
सज्दा करें हैं सुन कर औबाश सारे उस को
सय्यद पिसर वो प्यारा हैगा इमाम बाँका
یہ شعر کہتا ہے کہ جس شخص کو تمام شکایات سننا آتی ہے، اس کی تعریف کی جانی چاہیے۔ ایسے میں، پیارے امام بانکا کا نام ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔
11
ना-हक़ शनासी है ये ज़ाहिद न कर बराबर
ताअ'त से सौ बरस की सज्दा उस आस्ताँ का
اے زاہد، یہ حق شناسی نہیں ہے؛ اس دہلیز پر سو برس کی عبادت کچھ بھی نہیں۔
12
हैं दश्त अब ये जीते बस्ते थे शहर सारे
वीरान-ए-कुहन है मामूरा इस जहाँ का
اب یہ دشت وہ جگہیں ہیں جہاں کبھی پورا شہر آباد تھا، یہ جہاں ایک بچھڑا ہوا ہے، اے اس جہاں کے مالک۔
13
जिस दिन कि उस के मुँह से बुर्क़ा उठेगा सुनियो
उस रोज़ से जहाँ में ख़ुर्शीद फिर न झाँका
جس دن اس کے منہ سے برقع اٹھے گا، سن لو، اس روز سے جہاں میں سورج پھر نہیں جھانکے گا۔
14
ना-हक़ ये ज़ुल्म करना इंसाफ़ कह पियारे
है कौन सी जगह का किस शहर का कहाँ का
نا-حق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے، ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا۔ اس کا لفظی مطلب ہے: اے پیارے، اس ظلم کو انصاف کہنا چھوڑو۔ یہ کس جگہ کا، کس شہر کا یا کہاں کا ہے۔
15
सौदाई हो तो रक्खे बाज़ार-ए-इश्क़ में पा
सर मुफ़्त बेचते हैं ये कुछ चलन है वाँ का
اگر دل دکھا ہے تو اسے عشق کے بازار میں رکھ دیں؛ وہاں کا رواج ہے کہ کچھ چیزیں مفت میں بکتی ہیں۔
16
सौ गाली एक चश्मक इतना सुलूक तो है
औबाश ख़ाना जंग उस ख़ुश-चश्म बद-ज़बाँ का
سو گالیاں اور ایک نظر کا اشارہ، اتنا سُلُوک تو ہے۔ یہ آبرو خانہ جنگ ہے اُس خوش چشم بد زباں کا۔
17
या रोए या रुलाया अपनी तो यूँ ही गुज़री
क्या ज़िक्र हम-सफ़ीराँ यारान-ए-शादमाँ का
چاہے میں رویا یا مجھے رویا گیا، میرا وقت بس یوں ہی گزر گیا؛ میرے ہم سفروں اور خوشحال دوستوں کا کیا ذکر ہے۔
18
क़ैद-ए-क़फ़स में हैं तो ख़िदमत है नालगी की
गुलशन में थे तो हम को मंसब था रौज़ा-ख़्वाँ का
اگر قیدِ قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی، گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا رُوज़ा-خواں کا۔
19
पूछो तो 'मीर' से क्या कोई नज़र पड़ा है
चेहरा उतर रहा है कुछ आज उस जवाँ का
اگر آپ میر سے پوچھیں کہ کیا کسی کی نظر پڑی ہے، تو وہ کہتا ہے کہ آج اس نوجوان کے چہرے پر کچھ مدھم پڑ رہا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
