غزل

شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں

شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں
جگر مرادآبادی· Ghazal· 19 shers· radif: हूँ मैं

اس غزل میں شاعر خود کو فطرت کا نغمہ نگار قرار دیتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ تفکر کے عالم میں وہ کائنات کے ذرے ذرے میں روح بن کر سما جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، محبوب کی جدائی میں پیدا ہونے والی بے چینی اور کائنات میں کسی شے کی کمی کے پردرد احساس کو خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
शाएर-ए-फ़ितरत हूँ जब भी फ़िक्र फ़रमाता हूँ मैं रूह बन कर ज़र्रे ज़र्रे में समा जाता हूँ मैं
شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں روح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میں
میں فطرت کا شاعر ہوں اور جب بھی غور و فکر کرتا ہوں تو روح بن کر کائنات کے ہر ذرے میں سما جاتا ہوں۔
2
आ कि तुझ बिन इस तरह ऐ दोस्त घबराता हूँ मैं जैसे हर शय में किसी शय की कमी पाता हूँ मैं
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
اے دوست، تم آ جاؤ کیونکہ تمہارے بغیر میں اس قدر بے چین رہتا ہوں جیسے مجھے ہر چیز میں کسی نہ کسی چیز کی کمی محسوس ہوتی ہو۔
3
जिस क़दर अफ़्साना-ए-हस्ती को दोहराता हूँ मैं और भी बे-गाना-ए-हस्ती हुआ जाता हूँ मैं
جس قدر افسانۂ ہستی کو دہراتا ہوں میں اور بھی بیگانۂ ہستی ہوا جاتا ہوں میں
میں زندگی کی کہانی کو جتنا زیادہ دہراتا ہوں، اتنا ہی اس زندگی اور اپنے وجود سے بیگانہ ہوتا جاتا ہوں۔
4
जब मकान-ओ-ला-मकाँ सब से गुज़र जाता हूँ मैं अल्लाह अल्लाह तुझ को ख़ुद अपनी जगह पाता हूँ मैं
جب مکان و لا مکاں سب سے گزر جاتا ہوں میں اللہ اللہ تجھ کو خود اپنی جگہ پاتا ہوں میں
جب میں مکان اور لامکاں دونوں کی حدوں سے آگے نکل جاتا ہوں، تو نہایت حیرت کے ساتھ تجھے خود اپنی ہی جگہ پر پاتا ہوں۔
5
तेरी सूरत का जो आईना उसे पाता हूँ मैं अपने दिल पर आप क्या क्या नाज़ फ़रमाता हूँ मैं
تیری صورت کا جو آئینہ اسے پاتا ہوں میں اپنے دل پر آپ کیا کیا ناز فرماتا ہوں میں
جب میں اپنے دل کو تمہارے چہرے کا آئینہ پاتا ہوں، تو مجھے خود اپنے دل پر بے حد ناز ہوتا ہے۔
6
यक-ब-यक घबरा के जितनी दूर हट आता हूँ मैं और भी उस शोख़ को नज़दीक-तर पाता हूँ मैं
یک بہ یک گھبرا کے جتنی دور ہٹ آتا ہوں میں اور بھی اس شوخ کو نزدیک تر پاتا ہوں میں
اچانک گھبرا کر میں جتنا دور ہٹتا ہوں، اس شوخ محبوب کو اپنے اور بھی زیادہ قریب پاتا ہوں۔
7
मेरी हस्ती शौक़-ए-पैहम मेरी फ़ितरत इज़्तिराब कोई मंज़िल हो मगर गुज़रा चला जाता हूँ मैं
میری ہستی شوق پیہم میری فطرت اضطراب کوئی منزل ہو مگر گزرا چلا جاتا ہوں میں
میرا وجود مسلسل لگن اور میری فطرت بے چینی ہے؛ کوئی بھی منزل آئے، میں اس سے آگے ہی گزرتا چلا جاتا ہوں۔
8
हाए-री मजबूरियाँ तर्क-ए-मोहब्बत के लिए मुझ को समझाते हैं वो और उन को समझाता हूँ मैं
ہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیے مجھ کو سمجھاتے ہیں وہ اور ان کو سمجھاتا ہوں میں
ہائے، محبت ترک کرنے کے لیے کیسی مجبوری ہے کہ وہ مجھے سمجھاتے ہیں اور میں انہیں سمجھاتا ہوں۔
9
मेरी हिम्मत देखना मेरी तबीअत देखना जो सुलझ जाती है गुत्थी फिर से उलझाता हूँ मैं
میری ہمت دیکھنا میری طبیعت دیکھنا جو سلجھ جاتی ہے گتھی پھر سے الجھاتا ہوں میں
میری ہمت اور میری فطرت دیکھیے کہ جب بھی کوئی الجھی ہوئی گتھی سلجھ جاتی ہے تو میں اسے دوبارہ الجھا دیتا ہوں۔
10
हुस्न को क्या दुश्मनी है इश्क़ को क्या बैर है अपने ही क़दमों की ख़ुद ही ठोकरें खाता हूँ मैं
حسن کو کیا دشمنی ہے عشق کو کیا بیر ہے اپنے ہی قدموں کی خود ہی ٹھوکریں کھاتا ہوں میں
حسن کی مجھ سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ عشق سے کوئی بیر ہے، میں تو خود اپنے ہی قدموں سے ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔
11
तेरी महफ़िल तेरे जल्वे फिर तक़ाज़ा क्या ज़रूर ले उठा जाता हूँ ज़ालिम ले चला जाता हूँ मैं
تیری محفل تیرے جلوے پھر تقاضا کیا ضرور لے اٹھا جاتا ہوں ظالم لے چلا جاتا ہوں میں
یہ تمہاری ہی محفل ہے اور تمہارے ہی جلوے ہیں، تو پھر مجھے نکالنے کا تقاضا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ لو اے ظالم، میں خود ہی یہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ہوں۔
12
ता-कुजा ये पर्दा-दारी-हा-ए-इश्क़-ओ-लाफ़-ए-हुस्न हाँ सँभल जाएँ दो-आलम होश में आता हूँ मैं
تا کجا یہ پردہ داری ہائے عشق و لاف حسن ہاں سنبھل جائیں دو عالم ہوش میں آتا ہوں میں
عشق کا یہ پردہ اور حسن کا یہ غرور کب تک چلے گا؟ اب دونوں جہاں سنبھل جائیں کیونکہ میں ہوش میں آ رہا ہوں۔
13
मेरी ख़ातिर अब वो तकलीफ़-ए-तजल्ली क्यूँ करें अपनी गर्द-ए-शौक़ में ख़ुद ही छुपा जाता हूँ मैं
میری خاطر اب وہ تکلیف تجلی کیوں کریں اپنی گرد شوق میں خود ہی چھپا جاتا ہوں میں
میرے لیے اب محبوب اپنے جلوے دکھانے کی زحمت کیوں کرے، جب کہ میں اپنے ہی شوق کی گرد میں خود چھپ جاتا ہوں۔
14
दिल मुजस्सम शेर-ओ-नग़्मा वो सरापा रंग-ओ-बू क्या फ़ज़ाएँ हैं कि जिन में हल हुआ जाता हूँ मैं
دل مجسم شعر و نغمہ وہ سراپا رنگ و بو کیا فضائیں ہیں کہ جن میں حل ہوا جاتا ہوں میں
میرا دل مجسم شعر و نغمہ بن گیا ہے اور وہ سر سے پاؤں تک رنگ و خوشبو ہے؛ یہ کیسا ماحول ہے جس میں مَیں گھلتا چلا جا رہا ہوں۔
15
ता-कुजा ज़ब्त-ए-मोहब्बत ता-कुजा दर्द-ए-फ़िराक़ रहम कर मुझ पर कि तेरा राज़ कहलाता हूँ मैं
تا کجا ضبط محبت تا کجا درد فراق رحم کر مجھ پر کہ تیرا راز کہلاتا ہوں میں
میں کب تک محبت کو چھپائے رکھوں اور کب تک جدائی کا درد سہوں؟ مجھ پر رحم کرو کیونکہ میں تمہارا ہی راز کہلاتا ہوں۔
16
वाह-रे शौक़-ए-शहादत कू-ए-क़ातिल की तरफ़ गुनगुनाता रक़्स करता झूमता जाता हूँ मैं
واہ رے شوق شہادت کوئے قاتل کی طرف گنگناتا رقص کرتا جھومتا جاتا ہوں میں
شہادت کا یہ کیسا انوکھا شوق ہے کہ میں گنگناتا، ناچتا اور خوشی سے جھومتا ہوا اپنے قاتل کی گلی کی طرف جا رہا ہوں۔
17
या वो सूरत ख़ुद जहान-ए-रंग-ओ-बू महकूम था या ये आलम अपने साए से दबा जाता हूँ मैं
یا وہ صورت خود جہان رنگ و بو محکوم تھا یا یہ عالم اپنے سائے سے دبا جاتا ہوں میں
ایک وہ دور تھا جب یہ تمام رنگ و بو کی دنیا میرے ماتحت تھی، یا پھر اب یہ حالت ہے کہ میں اپنے ہی سائے سے دبا جا رہا ہوں۔
18
देखना इस इश्क़ की ये तुरफ़ा-कारी देखना वो जफ़ा करते हैं मुझ पर और शरमाता हूँ मैं
دیکھنا اس عشق کی یہ طرفہ کاری دیکھنا وہ جفا کرتے ہیں مجھ پر اور شرماتا ہوں میں
اس عشق کا یہ عجیب کرشمہ دیکھیے کہ ستم تو وہ مجھ پر کرتے ہیں، لیکن شرم مجھے آتی ہے۔
19
एक दिल है और तूफ़ान-ए-हवादिस ऐ 'जिगर' एक शीशा है कि हर पत्थर से टकराता हूँ मैं
ایک دل ہے اور طوفان حوادث اے جگرؔ ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں
اے جگر! ایک ہی دل ہے اور اس کے سامنے مصائب و حوادث کا طوفان ہے؛ میں شیشے کی مانند ہوں جو ہر پتھر سے ٹکراتا رہتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.