دل مجسم شعر و نغمہ وہ سراپا رنگ و بو — جگر مرادآبادی
“The heart is verse and melody incarnate, she all color and perfume; / Oh, what an atmosphere is this, in which I slowly dissolve away!”
معنی
میرا دل مجسم شعر و نغمہ بن گیا ہے اور وہ سر سے پاؤں تک رنگ و خوشبو ہے؛ یہ کیسا ماحول ہے جس میں مَیں گھلتا چلا جا رہا ہوں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے محبت اور حسن کے سحر انگیز ملاپ کو نہایت دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ دل خود شعر اور نغمہ بن چکا ہے اور محبوب سراپا رنگ و بو ہے، جس سے ایک پُرکیف فضا وجود میں آ گئی ہے۔ اس حسن اور نغمگی کے عالم میں عاشق اپنی ہستی کو مکمل طور پر فراموش کر کے اس جادوئی ماحول میں گھل مل جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
