ایک دل ہے اور طوفان حوادث اے جگرؔ — جگر مرادآبادی

ایک دل ہے اور طوفان حوادث اے جگرؔ ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں

“A single heart amidst a storm of misfortunes, O Jigar; a fragile glass, yet against every stone I clash.”

— جگر مرادآبادی

معنی

اے جگر! ایک ہی دل ہے اور اس کے سامنے مصائب و حوادث کا طوفان ہے؛ میں شیشے کی مانند ہوں جو ہر پتھر سے ٹکراتا رہتا ہے۔

تشریح

جگرؔ مراد آبادی نے اس شعر میں دل کی نزاکت اور حوادثِ زمانہ کا ایک شاندار تضاد کھینچا ہے۔ دل شیشے کی طرح نازک ہے اور دنیا مصائب کا ایسا طوفان جہاں ہر موڑ پر سخت پتھر موجود ہیں۔ مگر کمال یہ ہے کہ ٹوٹ جانے کے خوف کے باوجود انسان پیچھے نہیں ہٹتا، بلکہ ہر تلخی کا سینہ تان کر سامنا کرتا ہے—جو بظاہر کمزوری میں چھپی غیر معمولی ہمت کا اظہار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev19 / 19