حسن کو کیا دشمنی ہے عشق کو کیا بیر ہے — جگر مرادآبادی

حسن کو کیا دشمنی ہے عشق کو کیا بیر ہے اپنے ہی قدموں کی خود ہی ٹھوکریں کھاتا ہوں میں

“What enmity does Beauty bear, what grudge does Love maintain? Stumbling over my very own feet, I am the cause of my own pain.”

— جگر مرادآبادی

معنی

حسن کی مجھ سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ عشق سے کوئی بیر ہے، میں تو خود اپنے ہی قدموں سے ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔

تشریح

روایتی شاعری میں عاشق اکثر اپنے رنج و الم کا الزام محبوب کی بے رخی یا عشق کے ستم پر دھر دیتا ہے، مگر یہاں شاعر کمال کی خود شناسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وہ صاف کہتا ہے کہ نہ تو حسن مجھ سے دشمنی رکھتا ہے اور نہ عشق کو مجھ سے کوئی بیر ہے، بلکہ میری ساری الجھنیں میرے اپنے اندر سے پھوٹی ہیں۔ اپنے ہی قدموں سے ٹھوکر کھانے کا استعارہ بتاتا ہے کہ انسان اکثر اپنی ہی غلطیوں، بیجا توقعات اور جذباتی فیصلوں کے بوجھ تلے گرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.